۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 71

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينِ لِلْمَرِيضِ وَلِلْمَحْزُونِ عَلَى الْهَالِكِ، وَكَانَتْ تَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ “‏ إِنَّ التَّلْبِينَةَ تُجِمُّ فُؤَادَ الْمَرِيضِ، وَتَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ ‏”‏‏.‏

ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی ، انہیں عقیل نے ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عروہ نے کہحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگوار وں کے لیے تلبینہ ( روا ، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ ) پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آجاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ۔ )

Narrated ‘Urwa:

Aisha used to recommend at-Talbina for the sick and for such a person as grieved over a dead person. She used to say, “I heard Allah’s Messenger (ﷺ) saying, ‘at-Talbina gives rest to the heart of the patient and makes it active and relieves some of his sorrow and grief.'”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top