۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 66

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ‏”‏‏.‏ قَالَ وَالْفَرَعَ أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ‏.‏

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے خبر دی ، انہیں ابن مسیب نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اسلام میں ) فرع اور عتیرہ نہیں ہیں ۔ ” فرع “ ( اونٹنی کے ) سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جسے ( جاہلیت میں ) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور ” عتیرہ “ کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا ۔

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (ﷺ) said, “Neither Fara’ nor ‘Atira) is permissible).” Al-Fara’ was the first offspring (they got of camels or sheep) which they (pagans) used to offer (as a sacrifice) to their idols. ‘Atira was (a sheep which used to be slaughtered) during the month of Rajab.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top