۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 63

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ وَقَالَ ‏”‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏”‏‏.‏ فَأَبَيَا، فَقَالَ ‏”‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏”‏‏.‏ فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ فِي الْحَدِيثِ شَىْءٌ لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي‏.‏ قَالَ ‏”‏ لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهْوَ أَبْعَدُ مِنْكَ ‏”‏‏.‏

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا ہم سے حمید بن نافع نے ، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے کہایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ، اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ ( زمانہ عدت میں ) نہ لگاؤ ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہیں بدترین کپڑے میں وقت گزارنا پڑتا تھا ، یا ( راوی کو شک تھا کہ یہ فرمایا کہ ) بدترین گھر میں وقت ( عدت ) گزارنا پڑتا تھا ۔ جب اس طرح ایک سال پورا ہو جاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس پر مینگنی پھینکتی ( جب عدت سے باہر آتی ) پس سرمہ نہ لگاؤ ۔ یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر جائیں اور میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا ، وہ ام حبیبہ سے بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

Narrated Sa`id bin Jubair:

I said to Ibn `Umar, “If a man accuses his wife of illegal sexual intercourse (what is the judgment)?” He said, “Allah’s Prophet separated the couple of Bani ‘Ajlan (when the husband accused his wife for an illegal sexual intercourse). The Prophet (ﷺ) said, ‘Allah knows that one of you two IS a liar; so will one of you repent?’ But they refused. He then again said, ‘Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?’ But they refused, whereupon he separated them by divorce.” Aiyub (a subnarrator) said: `Amr bin Dinar said to me, “In the narration there is something which I do not see you mentioning, i.e. the husband said, “What about my money (Mahr)?’ The Prophet (ﷺ) said, “You are not entitled to take back money, for if you told the truth you have already entered upon her (and consummated your marriage with her) and if you are a liar then you are less entitled to take it back.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top