۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 63

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ، وَلاَ نَطَّيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ‏.‏

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ، کہا ہم سے شبل بن عباد نے ، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نےآیت کریمہ ” والذین یتوفون “ الخ ، یعنی اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ۔ “ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی ، پہلے واجب تھی ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” والذین یتوفون منکم “ الخ ، یعنی ” اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ( ان پر لازم ہے کہ ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک ( گھر سے ) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں ۔ “ اس باب میں جسے وہ ( بیویاں ) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں ۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی ۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہر ی رہے اور اگر چاہے ( چار مہینے دس دن کی عدت ) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ” غیر اخراج “ تک یعنی انہیں نکالا نہ جائے ۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں “ کا یہی منشا ہے ۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلی تھی ، اب بھی اس پر واجب ہے ۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور ( اسی طرح اس آیت نے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ” غیر اخراج “ یعنی ” انہیں نکالا نہ جائے “ ( کو بھی منسوخ کر دیا ہے ) عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے ( شوہر کے ) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ فلیس علیکم جناح الخ ، یعنی ” پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں ، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں “ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کر دیا ۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے ( شوہر کی طرف سے ) مکان کا انتظام نہیں ہو گا ۔

Narrated Um ‘Atiyya:

We were forbidden to mourn for more than three days for a dead person, except for a husband, for whom a wife should mourn for four months and ten days (while in the mourning period) we were not allowed to put kohl in our eyes, nor perfume our-selves, nor wear dyed clothes, except a garment of ‘Asb (special clothes made in Yemen). But it was permissible for us that when one of us became clean from her menses and took a bath, she could use a piece of a certain kind of incense. And it was forbidden for us to follow funeral processions.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top