۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 63

قَالَتْ زَيْنَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ “‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏”‏‏.‏

حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہاس کا کیا مطلب ہے کہ ” سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ؟ “ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ وتاریک کو ٹھڑی میں داخل ہو جاتی ۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی ۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی ۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے ۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی ۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی ۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ ” تفتض بہ “ کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی ۔

Zainab further said:
I want to Zainab bint Jahsh when her brother died. She asked for perfume and used some of it and said, “By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah’s Messenger (ﷺ) saying on the pulpit, ‘It is not lawful for a lady who believes in Allah and the last day to mourn for more than three days except for her husband for whom she should mourn for four months and ten days.'”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top