وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ فِي آخِرِ رَمَقٍ، وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ ”. لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، قَالَ فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ لاَ، فَقَالَ ” فَفُلاَنٌ ”. لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق شیبانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ جب سورج ڈوب گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی ( حضرت بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول ( کیونکہ آپ روزہ سے تھے ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے ، ابھی دن باقی ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر و اور ستو گھول لو ۔ آخر تیسری مر تبہ کہنے پرانہوں نے اتر کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا ، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے ۔
Narrated Anas bin Malik:
During the lifetime of Allah’s Messenger (ﷺ) a Jew attacked a girl and took some silver ornaments she was wearing and crushed her head. Her relative brought her to the Prophet (ﷺ) while she was in her last breaths, and she was unable to speak. Allah’s Messenger (ﷺ) asked her, “Who has hit you? So-and so?”, mentioning somebody other than her murderer. She moved her head, indicating denial. The Prophet (ﷺ) mentioned another person other than the murderer, and she again moved her head indicating denial. Then he asked, “Was it so-and-so?”, mentioning the name of her killer. She nodded, agreeing. Then Allah’s Messenger (ﷺ); ordered that the head of that Jew be crushed between two stones.
USC-MSA web (English) reference