حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، سَمِعَ الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ إِذَا حَرَّمَ امْرَأَتَهُ لَيْسَ بِشَىْءٍ. وَقَالَ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
مجھ سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے ، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے یقین کے ساتھ کہا کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہمیں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹھہرتے تھے اور ان کے یہاں شہد پیا کرتے تھے ۔ چنانچہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہ نے مل کر صلاح کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے یہاں بھی تشریف لائیں تو آنحضرت سے یہ کہا جائے کہ آپ کے منہ سے مغافیر ( ایک خاص قسم کے بدبودار گوند ) کی آتی ہے ، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ہم میں سے ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پیا ہے ، اب دوبارہ نہیں پیوں گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اے نبی ! آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے ” تا “ ان تتوبا الی اللہ ، یہ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف خطاب ہے ۔ واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا میں حدیث سے آپ کا یہی فرمانا مراد ہے کہ میں نے مغافیر نہیں کھایا بلکہ شہد پیا ہے ۔
Narrated Sa`id bin Jubair:
that he heard Ibn `Abbas saying, “If a man makes his wife unlawful for him, it does not mean that she is divorced.” He added, “Indeed in the Messenger of Allah , you have a good example to follow.”
USC-MSA web (English) reference