۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 57

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ، فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا‏.‏ فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ مِنْكُمْ ـ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلَى‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمُ ـ أَوْ مِنْكُمُ ـ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي عَمَّارًا‏.‏ قُلْتُ بَلَى‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ مِنْكُمْ ـ صَاحِبُ السِّوَاكِ أَوِ السِّرَارِ قَالَ بَلَى‏.‏ قَالَ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى‏}‏ قُلْتُ ‏{‏وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏‏.‏ قَالَ مَا زَالَ بِي هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہمیں جب شام آیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی ، کہ اے اللہ ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما ۔ پھر میں ایک قوم کے پاس آیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا ، تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے ، میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں ، اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ کوئی نیک ساتھی مجھے عطا فرما ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عنایت فرمایا ۔ انہوں نے دریافت کیا ، تمہارا وطن کہاں ہے ؟ میں نے عرض کیا کوفہ ہے ۔ انہوں نے کہا کیا تمہارے یہاں ابن ام عبد ، صاحب النعلین ، صاحب وسادہ ، و مطہرہ ( یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما ) نہیں ہیں ؟ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا ۔ ( مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی ) کیا تم میں وہ نہیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے بہت سے بھیدوں کے حامل ہیں جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ ( یعنی حذیفہ رضی اللہ عنہ ) اس کے بعد انہوں نے دریافت فرمایا عبداللہ رضی اللہ عنہ آیت ( ( واللیل اذا یغشیٰ ) ) کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں ؟ میں نے انہیں پڑھ کر سنائی کہ ( ( واللیل اذا یغشیٰ والنھار اذا تجلیٰ والذکر والانثی ) ) اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے مجھے بھی اسی طرح یاد کرایا تھا ۔

Narrated Ibrahim:

‘Alqama went to Sham and when he entered the mosque, he said, “O Allah ! Bless me with a pious companion.” So he sat with Abu Ad-Darda. Abu Ad-Darda’ asked him, “Where are you from?” ‘Alqama replied, “From the people of Kufa.” Abu Ad-Darda said, “Isn’t there amongst you the Keeper of the secret which nobody else knows i.e. Hudhaifa?” Al-qama said, “Yes.” Then Abu Ad-Darda further said, “Isn’t there amongst you the person whom Allah gave Refuge from Satan through the invocation of His Prophet namely `Ammar?” Alqama replied in the affirmative Abu Ad-Darda said, “Isn’t there amongst you the person who carries the Siwak (or the Secret) (i.e. of the Prophet (ﷺ) namely `Abdullah bin Massud)?” Alqama said, “Yes.” Then Abu Ad-Darda asked, “How (Abdullah bin Masud) used to recite the Sura starting with: “By the night as it envelopes; By the day as it appears in brightness?” (92.1-2). Alqama said “And by male and female.” Abu Ad-Darda then said, “These people (of Sham) tried hard to make me accept something other than what I had heard from the Prophet.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top