۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 56

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ ـ وَاسْمُهُ عُمَرُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاَءِ ـ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَيْهِ، فَحَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الْحَمِيدِ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا‏.‏ وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ سے کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے ایک درخت ( کے تنے ) کے پاس کھڑے ہوتے ، یا ( بیان کیا کہ ) کھجور کے درخت کے پاس ۔ پھر ایک انصاری عورت نے یا کسی صحابی نے کہا : یا رسول اللہ ! کیوں نہ ہم آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تمہارا جی چاہے تو کر دو ۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے لیے منبر تیار کر دیا ۔ جب جمعہ کا دن ہوا تو آپ اس منبر پر تشریف لے گئے ۔ اس پر اس کھجور کے تنے سے بچے کی طرح رونے کی آواز آنے لگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا ۔ جس طرح بچوں کو چپ کرنے کے لیے لوریاں دیتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح اسے چپ کرایا ، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ تنا اس لیے رو رہا تھا کہ وہ اللہ کے اس ذکر کو سنا کرتا تھا جو اس کے قریب ہوتا تھا ۔

Narrated Ibn `Umar:

The Prophet (ﷺ) used to deliver his sermons while standing beside a trunk of a datepalm. When he had the pulpit made, he used it instead. The trunk started crying and the Prophet (ﷺ) went to it, rubbing his hand over it (to stop its crying).

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top