حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَىْءٍ مِنْ دُعَائِهِ، إِلاَّ فِي الاِسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ. وَقَالَ أَبُو مُوسَى دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
ہم سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عون بن ابی جحیفہ سے سنا ، وہ اپنے والد ( ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ ) سے نقل کرتے تھے کہمیں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ابطح میں ( محصب میں ) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے ۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا ۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لئے اذان دی اور اندر آ گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے ۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے ۔ بلال رضی اللہ عنہ نے ( سترہ کے لیے ) نیزہ گاڑ دیا ۔ آپ نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی ، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں ۔
Narrated Anas:
Allah’s Messenger (ﷺ) did not use to raise his hands in his invocations except in the Istisqa (i.e. invoking Allah for the rain) in which he used to raise his hands so high that one could see the whiteness of his armpits. (Note: It may be that Anas did not see the prophet (as) raising his hands but it has been narrated that the Prophet (as) used to raise his hands for invocations other than Istisqa. See Hadith No. 612 Vol. 5. and Hadith No. 807 & 808 Vol 2.)
USC-MSA web (English) reference