۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 53

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ شَهِدْتَ صِفِّينَ قَالَ نَعَمْ، فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ، أَمْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَرَدَدْتُهُ، وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلاَّ أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ، نَعْرِفُهُ غَيْرِ أَمْرِنَا هَذَا‏.‏

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے ، ان سے یزید بن عبدالعزیز نے ، ان سے ان کے باپ عبدالعزیز بن سیاہ نے ، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابووائل نے بیان کیا کہہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے ۔ پھر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو ۔ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے ۔ عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے ( یعنی حدیبیہ میں ) اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں ! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ کیوں نہیں ! پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں ؟ کیا ہم ( مدینہ ) واپس چلے جائیں گے ، اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کئے ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی کر چکے تھے ۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا ۔ پھر سوہ فتح نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا یہی فتح ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! بلا شک یہی فتح ہے ۔

Narrated Al-A`mash:

I asked Abu Wail, “Did you take part in the battle of Siffin?” He said, ‘Yes, and I heard Sahl bin Hunaif (when he was blamed for lack of zeal for fighting) saying, “You’d better blame your wrong opinions. I wish you had seen me on the day of Abu Jandal. If I had the courage to disobey the Prophet’s orders, I would have done so. We had kept out swords on our necks and shoulders, for a thing which frightened us. And we did so, we found it easier for us, except in the case of the above battle (of ours).’ “

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top