قَالَ أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا فَقِيلَ لَهُ وَكَيْفَ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِيْ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ. قَالُوا عَمَّ ذَاكَ قَالَ تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَيَشُدُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَيَمْنَعُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی ، کہا کہ میں نے اعمش سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہمیں نے ابووائل سے پوچھا ، کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں ( میں تھا ) اور میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط سمجھو ، جو آپس میں لڑتے مرتے ہو ۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا جس دن ابوجندل آیا ( یعنی حدیبیہ کے دن ) اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پھیر دیتا اور ہم نے جب کسی مصیبت میں ڈر کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہو گئی ۔ ہم کو اس کا انجام معلوم ہو گیا ۔ مگر یہی ایک لڑائی ہے ( جو سخت مشکل ہے اس کا انجام بہتر نہیں معلوم ہوتا ) ۔
USC-MSA web (English) reference