حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الأَنْصَارَ لِيَكْتُبَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لاَ وَاللَّهِ حَتَّى تَكْتُبَ لإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا. فَقَالَ ذَاكَ لَهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ يَقُولُونَ لَهُ قَالَ “ فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ”.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے روح بن قاسم نے خبر دی ، انہیں محمد بن منکدر نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر ہمارے پاس بحرین سے روپیہ آیا ، تو میں تمہیں اتنا ، اتنا ، اتنا ( تین لپ ) دوں گا ۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس کے بعد بحرین کا روپیہ آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کسی سے کوئی دینے کا وعدہ کیا ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ۔ چنانچہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا روپیہ ہمارے یہاں آیا تو میں تمہیں اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا ۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اچھا ایک لپ بھرو ، میں نے ایک لپ بھری ، تو انہوں نے فرمایا کہ اسے شمار کرو ، میں نے شمار کیا تو پانچ سو تھا ، پھر انہوں نے مجھے ڈیڑھ ہزار عنایت فرمایا ۔
اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بحرین سے خراج کا روپیہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسجد میں پھیلا دو ، بحرین کا وہ مال ان تمام اموال میں سب سے زیادہ تھا جو اب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آ چکے تھے ۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! مجھے بھی عنایت فرمائیے ( میں زیر بار ہوں ) کیونکہ میں نے ( بدر کے موقع پر ) اپنا بھی فدیہ ادا کیا تھا اور عقیل رضی اللہ عنہ کا بھی ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا لے لیجئے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے کپڑے میں روپیہ بھر لیا ( لیکن اٹھایا نہ جا سکا ) تو اس میں سے کم کرنے لگے ۔ لیکن کم کرنے کے بعد بھی نہ اٹھ سکا تو عرض کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو حکم دیں کہ اٹھانے میں میری مدد کرے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ پھر آپ خود ہی اٹھوا دیں ۔ فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا ۔ پھر عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ کم کیا ، لیکن اس پر بھی نہ اٹھا سکے تو کہا کہ کسی کو حکم دیجئیے کہ وہ اٹھا دے ، فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا پھر آپ ہی اٹھا دیں ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا ۔ آخر اس میں سے انہیں پھر کم کرنا پڑا اور تب کہیں جا کے اسے اپنے کاندھے پر اٹھا سکے اور لے کر جانے لگے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک انہیں برابر دیکھتے رہے ، جب تک وہ ہماری نظروں سے چھپ نہ گئے ۔ ان کے حرص پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب فرمایا اور آپ اس وقت تک وہاں سے نہ اٹھے جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی رہا ۔
Narrated Yahya bin Sa`id:
Once the Prophet (ﷺ) called the Ansar in order to grant them part of the land of Bahrain. On that they said, “No! By Allah, we will not accept it unless you grant a similar thing to our Quarries brothers as well.” He said, “That will be their’s if Allah wishes.” But when the Ansar persisted in their request, he said, “After me you will see others given preference over you in this respect (in which case) you should be patient till you meet me at the Tank (of Al-Kauthar).
USC-MSA web (English) reference