حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ “ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ”. فَوَزَنَ ـ قَالَ شُعْبَةُ أُرَاهُ فَوَزَنَ لِي فَأَرْجَحَ، فَمَا زَالَ مِنْهَا شَىْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَ الْحَرَّةِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ابوحازم سے ، وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پینے کو لایا گیا ۔ آپ کی دائیں طرف ایک بچہ تھا اور قوم کے بڑے لوگ بائیں طرف تھے ۔ آپ نے بچے سے فرمایا کہ کیا تمہاری طرف سے اس کی اجازت ہے کہ میں بچا ہوا پانی ان بزرگوں کو دے دوں ؟ تو اس بچے نے کہا کہ نہیں قسم اللہ کی ! میں آپ سے ملنے والے اپنے حصہ کا ہرگز ایثار نہیں کر سکتا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب ان کی طرف جھٹکے کے ساتھ بڑھا دیا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:
I sold a camel to the Prophet (ﷺ) on one of the journeys. When we reached Medina, he ordered me to go to the Mosque and offer two rak`at. Then he weighed for me (the price of the camel in gold) and gave an extra amount over it. A part of it remained with me till it was taken by the army of Sham on the day of Harra.”
USC-MSA web (English) reference