۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 47

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةً، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَىَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي‏.‏ قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ ‏ “‏ خَبَأْنَا هَذَا لَكَ ‏”‏‏.‏ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَضِيَ مَخْرَمَةُ‏.‏

ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا زہری سے ، وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں تو ہلاک ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا بات ہوئی ؟ عرض کیا کہ رمضان میں میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، تمہارے پاس کوئی غلام ہے ؟ کہا کہ نہیں ۔ پھر دریافت فرمایا ، کیا دو مہینے پے در پے روزے رکھ سکتے ہو ؟ کہا کہ نہیں ۔ پھر دریافت فرمایا ، کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو ؟ اس پر بھی جواب تھا کہ نہیں ۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک انصاری عرق لائے ۔ ( عرق کھجور کے پتوں کا بنا ہوا ایک ٹوکرا ہوتا تھا جس میں کھجور رکھی جاتی تھی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اسے لے جا اور صدقہ کر دے انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! کیا اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کر دوں ؟ اور اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ سارے مدینے میں ہم سے زیادہ محتاج اور کوئی گھرانہ نہیں ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا ، اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دے ۔

Narrated Al-Miswar bin Makhrama:

Allah’s Messenger (ﷺ) distributed some cloaks but did not give anything thereof to Makhrama. Makhrama said (to me), “O son! accompany me to Allah’s Messenger (ﷺ).” When I went with him, he said, “Call him to me.” I called him (i.e. the Prophet (ﷺ) ) for my father. He came out wearing one of those cloaks and said, “We kept this (cloak) for you, (Makhrama).” Makhrama looked at the cloak and said, “Makhrama is pleased,” (or the Prophet (ﷺ) said), “Is Makhrama pleased?”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top