حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَنَاوَلَنِي طِيبًا، قَالَ كَانَ أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ. قَالَ وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، ان سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ابن شہاب سے ، ان سے عروہ نے ذکر کیا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہجب قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور اللہ کی شان کے مطابق ثناء کے بعد آپ نے فرمایا : امابعد ! یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں ۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے ( قیدیوں کو ) واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے اور جو یہ چاہے کہ انہیں ان کا حصہ ملے ( تو وہ بھی واپس کر دے ) اور ہمیں اللہ تعالیٰ ( اس کے بعد ) سب سے پہلی جو غنیمت دے گا ، اس میں سے ہم اسے معاوضہ دے دیں گے ۔ لوگوں نے کہا ہم اپنی خوشی سے ( ان کے قیدی واپس کر کے ) آپ کا ارشاد تسلیم کرتے ہیں ۔
Narrated ‘Azra bin Thabit Al-Ansari:
When I went to Thumama bin `Abdullah, he gave me some perfume and said that Anas would not reject the gifts of perfume. Anas said: The Prophet (ﷺ) used not to reject the gifts of perfume.
USC-MSA web (English) reference