حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ “ لاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ، فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ، فَلاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ”.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے منبعث کے غلام یزید نے ، اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے کہایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ ۔ پھر اس کے بندھن اور برتن کی بناوٹ کو ذہن میں یاد رکھ ۔ اور اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر ۔ اس کا مالک اگر اس کے بعد آئے تو اسے واپس کر دے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! راستہ بھولی ہوئی بکری کا کیا کیا جائے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو ، کیونکہ وہ یا تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیئے کی ہو گی ۔ صحابہ نے پوچھا ، یا رسول اللہ ! راستہ بھولے ہوئے اونٹ کا کیا کیا جائے ؟ آپ اس پر غصہ ہو گئے اور چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ( یا راوی نے وجنتاہ کے بجائے ) احمر وجہہ کہا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تمہیں اس سے کیا مطلب ؟ اس کے ساتھ خود اس کے کھر اور اس کا مشکیزہ ہے ۔ اسی طرح اسے اس کا اصل مالک مل جائے گا ۔
Narrated Ibn `Umar:
Allah’s Messenger (ﷺ) said, “An animal should not be milked without the permission of its owner. Does any of you like that somebody comes to his store and breaks his container and takes away his food? The udders of the animals are the stores of their owners where their provision is kept, so nobody should milk the animals of somebody else, without the permission of its owner.”
USC-MSA web (English) reference