۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 42

وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ لاَ يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا ‏”‏‏.‏ فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏”‏‏.‏

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کہا کہمجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کو مکہ سے روک دیا تھا ، لیکن اپنے رسول اور مسلمانوں کو اسے فتح کرا دیا ۔ دیکھو ! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا ( یعنی وہاں لڑنا ) اور میرے لیے صرف دن کے تھوڑے سے حصے میں درست ہوا ۔ اب میرے بعد کسی کے لیے درست نہیں ہو گا ۔ پس اس کے شکار نہ چھیڑے جائیں اور نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں ۔ یہاں کی گری ہوئی چیز صرف اسی کے لیے حلال ہو گی جو اس کا اعلان کرے ۔ جس کا کوئی آدمی قتل کیا گیا ہو اسے دو باتوں کا اختیار ہے یا ( قاتل سے ) فدیہ ( مال ) لے لے ، یا جان کے بدلے جان لے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ، یا رسول اللہ ! اذخر کاٹنے کی اجازت ہو ، کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اذخر کاٹنے کی اجاز ت ہے ۔ پھر ابوشاہ یمن کے ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا ، یا رسول اللہ ! میرے لیے یہ خطبہ لکھوا دیجئیے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم فرمایا کہ ابوشاہ کے لیے یہ خطبہ لکھ دو ۔ میں نے امام اوزاعی سے پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے کہ ” میرے لیے اسے لکھوا دیجئیے “ تو انہوں نے کہا کہ وہی خطبہ مراد ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مکہ میں ) سنا تھا ۔

Narrated Ibn ‘Abbas (ra):
Allah’s Messenger (ﷺ) also said, “It (i.e., Makkah’s) thorny bushes should not be uprooted and its game should not be chased, and picking up its fallen things is illegal except by him who makes public announcement about it, and its grass should not be cut.” ‘Abbas said, “O Allah’s Messenger ! Except Idhkhir (a kind of grass).” The Prophet (ﷺ) said, “Except Idhkhir.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top