حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ،. وَقَالَ غَيْرُهُ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ دَيْنٌ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَمَرَّ بِهِمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ “ يَا كَعْبُ ”. وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر بن حازم نے بیان کیا ، انہیں شعبہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابوالضحیٰ نے ، انہیں مسروق نے ، اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہمیں جاہلیت کے زمانہ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل ( کافر ) پر میرے کچھ روپے قرض تھے ۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے گیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض ادا نہیں کروں گا ۔ میں نے کہا ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ! میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کبھی نہیں کر سکتا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مارے اور پھر تم کو اٹھائے ۔ وہ کہنے لگا کہ پھر مجھ سے بھی تقاضا نہ کر ۔ میں جب مر کے دوبارہ زندہ ہوں گا تو مجھے ( دوسری زندگی میں ) مال اور اولاد دی جائے گی تو تمہارا قرض بھی ادا کر دوں گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دی جائے گی ۔ “ آخر آیت تک ۔
Narrated `Abdullah bin Ka`b bin Malik Al-Ansari from Ka`b bin Malik:
That `Abdullah bin Abi Hadrad Al-Aslami owed him some debt. Ka`b met him and caught hold of him and they started talking and their voices grew loudest. The Prophet (ﷺ) passed by them and addressed Ka`b, pointing out to him to reduce the debt to one half. So, Ka`b got one half of the debt and exempted the debtor from the other half.
USC-MSA web (English) reference