۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 41

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَجُلاً، قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم خِلاَفَهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏ كِلاَكُمَا مُحْسِنٌ ‏”‏‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ قَالَ ‏”‏ لاَ تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا ‏”‏‏.‏

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ اور عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہدو شخصوں نے جن میں ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی ، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا ۔ مسلمان نے کہا ، اس ذا ت کی قسم ! جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی ۔ اور یہودی نے کہا ، اس ذا ت کی قسم جس نے موسیٰ ( علیہ الصلٰوۃ و السلام ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی ۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے طمانچہ مارا ۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور مسلمان کے ساتھ اپنے واقعہ کو بیان کیا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلایا اور ان سے واقعہ کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے آپ کو اس کی تفصیل بتا دی ۔ آپ نے اس کے بعد فرمایا ، مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو ۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دیئے جائیں گے ۔ میں بھی بیہوش ہو جاؤں گا ۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا ، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا ۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہونے والوں میں ہوں گے اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آ جائے گا ۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں ۔

Narrated `Abdullah:

I heard a man reciting a verse (of the Holy Qur’an) but I had heard the Prophet (ﷺ) reciting it differently. So, I caught hold of the man by the hand and took him to Allah’s Messenger (ﷺ) who said, “Both of you are right.” Shu`ba, the sub-narrator said, “I think he said to them, “Don’t differ, for the nations before you differed and perished (because of their differences). “

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top