حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِجَنَازَةٍ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ ” هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ ”. قَالُوا لاَ. فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ ” هَلْ عَلَيْهِ مَنْ دَيْنٍ ”. قَالُوا نَعَمْ. قَالَ ” صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ”. قَالَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَىَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن علی باقر سے سنا ، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بحرین سے ( جزیہ کا ) مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دونوں لپ بھربھر کر دوں گا لیکن بحرین سے مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک نہیں آیا پھر جب اس کے بعد وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ پر کسی کا قرض ہو وہ ہمارے یہاں آ جائے ۔ چنانچہ میں حاضر ہوا ۔ اور میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ وہ باتیں فرمائی تھیں ۔ جسے سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا ۔ میں نے اسے شمار کیا تو وہ پانچ سو کی رقم تھی ۔ پھر فرمایا کہ اس کے دو گنا اور لے لو ۔
Narrated Salama bin Al-Akwa`:
A dead person was brought to the Prophet (ﷺ) so that he might lead the funeral prayer for him. He asked, “Is he in debt?” When the people replied in the negative, he led the funeral prayer. Another dead person was brought and he asked, “Is he in debt?” They said, “Yes.” He (refused to lead the prayer and) said, “Lead the prayer of your friend.” Abu Qatada said, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! I undertake to pay his debt.” Allah’s Messenger (ﷺ) then led his funeral prayer.
USC-MSA web (English) reference