حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ فِي السَّبْىِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، کہوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ۔ ( ایک انصاری صحابی نے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں ۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے ۔ تو آپ عزل کر لینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو ؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں ۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی ۔
Narrated Anas:
Amongst the captives was Safiya. First she was given to Dihya Al-Kalbi and then to the Prophet.
USC-MSA web (English) reference