حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلاً.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:
Allah’s Messenger (ﷺ) forbade Muzabana; and Muzabana means the selling of fresh dates (on the trees) for dried dates by measure and also the selling of fresh grapes for dried grapes by measure.
USC-MSA web (English) reference