۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 22

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنِ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ‏”‏‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ‏.‏

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے پہر کی دو نمازوں ( ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز پڑھی ۔ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر ہی کی نماز تھی ۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے سے جو مسجد کی اگلی صف میں تھا ، ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس پر رکھے ہوئے تھے ۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن انہیں بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ جو ( جلد باز قسم کے ) لوگ نماز پڑھتے ہی مسجد سے نکل جانے کے عادی تھے ۔ وہ باہر جا چکے تھے ۔ لوگوں نے کہا کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں ۔ ایک شخص جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہتے تھے ۔ وہ بولے یا رسول اللہ ! آپ بھول گئے یا نماز میں کمی ہو گئی ؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعتیں کم ہوئیں ۔ ذوالیدین بولے کہ نہیں آپ بھول گئے ہیں ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھی اور سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور معمول کے مطابق یا اس سے بھی طویل سجدہ کیا ۔ جب سجدہ سے سر اٹھایا تو پھر تکبیر کہی اور پھر تکبیر کہہ کر سجدہ میں گئے ۔ یہ سجدہ بھی معمول کی طرح یا اس سے طویل تھا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی ۔

Narrated Abu Huraira.:

Once Allah’s Messenger (ﷺ) offered two rak`at and finished his prayer. So Dhul-Yadain asked him, “Has the prayer been reduced or have you forgotten?” Allah’s Messenger (ﷺ) said, “Has Dhul-Yadain spoken the truth?” The people replied in the affirmative. Then Allah’s Messenger (ﷺ) stood up and offered the remaining two rak`at and performed Taslim, and then said Takbir and performed two prostrations like his usual prostrations, or a bit longer, and then got up.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top