۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 22

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ يُونُسُ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ الْمُسْلِمِينَ، بَيْنَا هُمْ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ يُصَلِّي بِهِمْ فَفَجَأَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، وَهُمْ صُفُوفٌ، فَتَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى عَقِبَيْهِ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلاَتِهِمْ فَرَحًا بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَأَوْهُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا، ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَتُوُفِّيَ ذَلِكَ الْيَوْمَ‏.‏

اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بنی اسرائیل کی ) ایک عورت نے اپنے بیٹے کو پکارا ، اس وقت وہ عبادت خانے میں تھا ۔ ماں نے پکارا کہ اے جریج ! جریج ( پس و پیش میں پڑ گیا اور دل میں ) کہنے لگا کہ اے اللہ ! میں اب ماں کو دیکھوں یا نماز کو ۔ پھر ماں نے پکارا اے جریج ! ( وہ اب بھی اس پس و پیش میں تھا ) کہ اے اللہ ! میری ماں اور میری نماز ! ماں نے پھر پکارا اے جریج ! ( وہ اب بھی یہی ) سوچے جا رہا تھا ۔ اے اللہ ! میری ماں اور میری نماز ! ( آخر ) ماں نے تنگ ہو کر بددعا کی اے اللہ ! جریج کو موت نہ آئے جب تک وہ فاحشہ عورت کا چہرہ نہ دیکھ لے ۔ جریج کی عبادت گاہ کے قریب ایک چرانے والی آیا کرتی تھی جو بکریاں چراتی تھی ۔ اتفاق سے اس کے بچہ پیدا ہوا ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کس کا بچہ ہے ؟ اس نے کہا کہ جریج کا ہے ۔ وہ ایک مرتبہ اپنی عبادت گاہ سے نکل کر میرے پاس رہا تھا ۔ جریج نے پوچھا کہ وہ عورت کون ہے ؟ جس نے مجھ پر تہمت لگائی ہے کہ اس کا بچہ مجھ سے ہے ۔ ( عورت بچے کو لے کر آئی تو ) انہوں نے بچے سے پوچھا کہ بچے ! تمہارا باپ کون ؟ بچہ بول پڑا کہ ایک بکری چرانے والا گڈریا میرا باپ ہے ۔

Narrated Anas bin Malik:

While Abu Bakr was leading the people in the morning prayer on a Monday, the Prophet (ﷺ) came towards them suddenly having lifted the curtain of ‘Aisha’s house, and looked at them as they were standing in rows and smiled. Abu Bakr tried to come back thinking that Allah’s Apostle wanted to come out for the prayer. The attention of the Muslims was diverted from the prayer because they were delighted to see the Prophet. The Prophet (ﷺ) waved his hand to them to complete their prayer, then he went back into the room and let down the curtain. The Prophet expired on that very day.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top