۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 17

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ باب كَانَ وُجَاهَ الْمِنْبَرِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يُغِيثُنَا‏.‏ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ فَقَالَ ‏”‏ اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا ‏”‏‏.‏ قَالَ أَنَسٌ وَلاَ وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلاَ قَزَعَةً وَلاَ شَيْئًا، وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلاَ دَارٍ، قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ‏.‏ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا، ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا، قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏”‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالْجِبَالِ وَالآجَامِ وَالظِّرَابِ وَالأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ ‏”‏‏.‏ قَالَ فَانْقَطَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ‏.‏ قَالَ شَرِيكٌ فَسَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الأَوَّلُ قَالَ لاَ أَدْرِي‏.‏

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شریک نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا ۔ اب جہاں دار القضاء ہے اسی طرف کے دروازے سے وہ آیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے ، اس نے بھی کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا کہا کہ یا رسول اللہ ! جانور مر گئے اور راستے بند ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہم پر پانی برسائے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی «اللهم أغثنا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أغثنا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أغثنا» اے اللہ ! ہم پر پانی برسا ۔ اے اللہ ! ہمیں سیراب کر ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم آسمان پر بادل کا کہیں نشان بھی نہ تھا اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے بیچ میں مکانات بھی نہیں تھے ، اتنے میں پہاڑ کے پیچھے سے بادل نمودار ہوا ڈھال کی طرح اور آسمان کے بیچ میں پہنچ کر چاروں طرف پھیل گیا اور برسنے لگا ۔ خدا کی قسم ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا ۔ پھر دوسرے جمعہ کو ایک شخص اسی دروازے سے داخل ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے ، اس لیے اس نے کھڑے کھڑے کہا کہ یا رسول اللہ ! ( کثرت بارش سے ) جانور تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش بند ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر» اے اللہ ! ہمارے اطراف میں بارش برسا ( جہاں ضرورت ہے ) ہم پر نہ برسا ۔ اے اللہ ! ٹیلوں پہاڑیوں وادیوں اور باغوں کو سیراب کر ۔ چنانچہ بارش کا سلسلہ بند ہو گیا اور ہم باہر آئے تو دھوپ نکل چکی تھی ۔ شریک نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ پہلا ہی شخص تھا ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں ۔

Narrated Sharik bin `Abdullah bin Abi Namir:

I heard Anas bin Malik saying, “On a Friday a person entered the main Mosque through the gate facing the pulpit while Allah’s Messenger (ﷺ) was delivering the Khutba. The man stood in front of Allah’s Apostle and said, ‘O Allah’s Messenger (ﷺ)! The livestock are dying and the roads are cut off; so please pray to Allah for rain.’ ” Anas added, “Allah’s Messenger (ﷺ) (p.b.u.h) raised both his hands and said, ‘O Allah! Bless us with rain! O Allah! Bless us with rain! O Allah! Bless us with rain!’ ” Anas added, “By Allah, we could not see any trace of cloud in the sky and there was no building or a house between us and (the mountains of) Sila.” Anas added, “A heavy cloud like a shield appeared from behind it (i.e. Sila’ Mountain). When it came in the middle of the sky, it spread and then rained.” Anas further said, “By Allah! We could not see the sun for a week. Next Friday a person entered through the same gate and at that time Allah’s Messenger (ﷺ) was delivering the Friday’s Khutba. The man stood in front of him and said, ‘O Allah’s Messenger (ﷺ)! The livestock are dying and the roads are cut off, please pray to Allah to withhold rain.’ ” Anas added, “Allah’s Messenger (ﷺ) I raised both his hands and said, ‘O Allah! Round about us and not on us. O Allah! On the plateaus, on the mountains, on the hills, in the valleys and on the places where trees grow.’ So the rain stopped and we came out walking in the sun.” Sharik asked Anas whether it was the same person who had asked for the rain (the last Friday). Anas replied that he did not know.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top