۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 16

وَعَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَةِ وَالرَّكْعَتَيْنِ فِي الْوِتْرِ، حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ‏.‏

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے کریب نے اور انہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہآپ ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سوئے ( آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ) میں تکیہ کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی لمبائی میں لیٹیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے جب آدھی رات گزر گئی یا اس کے لگ بھگ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نیند کے اثر کو چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور کیا ۔ اس کے بعد آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں ۔ پھر ایک پرانی مشک پانی کی بھری ہوئی لٹک رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور اچھی طرح وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیار سے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر رکھ کر اور میرا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت سب بارہ رکعتیں پھر ایک رکعت وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے ، یہاں تک کہ مؤذن صبح صادق کی اطلاع دینے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کھڑے ہو کر دو رکعت سنت نماز پڑھی ۔ پھر باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی ۔

Nafi` told that `Abdullah bin `Umar used to say Taslim between (the first) two Rak`at and (the third) odd one in the Witr prayer, when he wanted to attend to a certain matter (during that interval between the Rak`at).

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top