۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 15

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قِيلَ لَهُ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ، وَلَوْلاَ مَكَانِي مِنَ الصِّغَرِ مَا شَهِدْتُهُ، حَتَّى أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يُهْوِينَ بِأَيْدِيهِنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلاَلٌ إِلَى بَيْتِهِ‏.‏

ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو میں نے یہ کہتے سنا کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کی نماز پڑھی ۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں منبر نہیں لے کر جاتے تھے ۔ تو اس اترے سے مراد بلند جگہ سے اترے ) اور عورتوں کی طرف آئے ۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی ۔ آپ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے ۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں ۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں ۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں ۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے ۔

Narrated `Abdur Rahman bin `Abis:

Ibn `Abbas was asked whether he had joined the Prophet (ﷺ) in the `Id prayer. He said, “Yes. And I could not have joined him had I not been young. (The Prophet (ﷺ) came out) till he reached the mark which was near the house of Kathir bin As-Salt, offered the prayer, delivered the Khutba and then went towards the women. Bilal was accompanying him. He preached to them and advised them and ordered them to give alms. I saw the women putting their ornaments with their outstretched hands into Bilal’s garment. Then the Prophet (ﷺ) along with Bilal returned home.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top