۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 12

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأُرَى ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ أَنَّ مُكْثَهُ لِكَىْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ‏.‏

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابو معبد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا کہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کو تکبیر («الله اكبر») کی وجہ سے سمجھ جاتا تھا ۔ علی بن مدینی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو کے حوالے سے بیان کیا کہ ابومعبد ابن عباس کے غلاموں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے ۔ علی بن مدینی نے بتایا کہ ان کا نام نافذ تھا ۔

Narrated Um Salama:

Whenever Allah’s Messenger (ﷺ) finished his prayers with Taslim, the women would get up and he would stay on for a while in his place before getting up. Ibn Shihab said, “I think (and Allah knows better), that the purpose of his stay was that the women might leave before the men who had finished their prayer. “

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top