حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ عَاقِدُو أُزْرِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ لاَ تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا.
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے بیان کیا ، انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے ، کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہمیں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیوں نہ سکھا دوں ۔ ابوقلابہ نے کہا یہ نماز کا وقت نہیں تھا ( مگر آپ ہمیں سکھانے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ پھر رکوع کیا اور تکبیر کہی پھر سر اٹھایا اور تھوڑی دیر کھڑے رہے ۔ پھر سجدہ کیا اور تھوڑی دیر کے لیے سجدہ سے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور سجدہ سے تھوڑی دیر کے لیے سر اٹھایا ۔ انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی ایوب سختیانی نے کہا کہ وہ عمرو بن سلمہ نماز میں ایک ایسی چیز کیا کرتے تھے کہ دوسرے لوگوں کو اس طرح کرتے میں نے نہیں دیکھا ۔ آپ تیسری یا چوتھی رکعت پر ( سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہونے سے پہلے ) بیٹھتے تھے ۔ ( یعنی جلسہ استراحت کرتے تھے ) ۔
( پھر نماز سکھلانے کے بعدمالک بن حویرث نے بیان کیا کہ )ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہرے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( بہتر ہے ) تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ ۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا ۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں بڑا ہو وہ نماز پڑھائے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d:
The people used to pray with the Prophet (ﷺ) tying their Izars around their necks because of their small sizes and the women were directed that they should not raise their heads from the prostrations till the men had sat straight.
USC-MSA web (English) reference