حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ ” سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ”. قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ” مَنِ الْمُتَكَلِّمُ ”. قَالَ أَنَا. قَالَ ” رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاَثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ ”.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے ۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں ۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو ، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے ۔ پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اس کے بعد «ربنا ولك الحمد» سجدہ سے پہلے ، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «الله أكبر» کہتے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے ۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت «الله أكبر» کہتے ۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے ۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولیٰ کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں ۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے ۔
Narrated Rifa`a bin Rafi` Az-Zuraqi:
One day we were praying behind the Prophet. When he raised his head from bowing, he said, “Sami`a l-lahu liman hamidah.” A man behind him said, “Rabbana wa laka l-hamdu, hamdan kathiran taiyiban mubarakan fihi” (O our Lord! All the praises are for You, many good and blessed praises). When the Prophet completed the prayer, he asked, “Who has said these words?” The man replied, “I.” The Prophet said, “I saw over thirty angels competing to write it first.” Prophet rose (from bowing) and stood straight till all the vertebrae of his spinal column came to a natural position.
USC-MSA web (English) reference