حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِطُولِ الطُّولَيَيْنِ
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اپنے باپ سے ، انھوں نے بکر بن عبداللہ سے ، انھوں نے ابورافع سے ، انھوں نے بیان کیا کہمیں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ۔ اس میں آپ نے «إذا السماء انشقت» پڑھی اور سجدہ ( تلاوت ) کیا ۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی ( اس آیت میں تلاوت کا ) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا ، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاؤں ۔
Narrated Marwan bin Al-Hakam:
Zaid bin Thabit said to me, “Why do you recite very short Suras in the Maghrib prayer while I heard the Prophet (ﷺ) reciting the longer of the two long Suras?”
USC-MSA web (English) reference