۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 11

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ‏.‏

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے ابراہیم نخعی سے بیان کیا ، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہآپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر خدمت ہوئے ۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو ۔ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر کچے دل کے آدمی ہیں اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رو دیں گے اور قرآت نہ کر سکیں گے ۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ میں نے وہی عذر پھر دہرایا ۔ پھر آپ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ تو بالکل صواحب یوسف کی طرح ہو ۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کرا دی ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنا مزاج ذرا ہلکا پا کر ) دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے باہر تشریف لائے ۔ گویا میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے کہ آپ کے قدم زمین پر نشان کر رہے تھے ۔ ابوبکر آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے ۔ لیکن آپ نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھانے کے لیے کہا ۔ ابوبکر پیچھے ہٹ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بازو میں بیٹھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر سنا رہے تھے ۔ عبداللہ بن داؤد کے ساتھ اس حدیث کو محاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے ۔

Narrated Jabir bin `Abdullah:

Mu`adh used to pray with the Prophet (ﷺ) and then go and lead his people (tribe) in the prayer.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top