۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 11

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ ‏”‏‏.‏

ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انہوں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے ، آپ نے فرمایا کہایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں فجر کی نماز میں تاخیر کر کے اس لیے شریک ہوتا ہوں کہ فلاں صاحب فجر کی نماز بہت طویل کر دیتے ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غصہ ہوئے کہ میں نے نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ غضب ناک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! تم میں بعض لوگ ( نماز سے لوگوں کو ) دور کرنے کا باعث ہیں ۔ پس جو شخص امام ہو اسے ہلکی نماز پڑھنی چاہئے اس لیے کہ اس کے پیچھے کمزور ، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی ہوتے ہیں ۔

Narrated Abu Huraira:

Allah’s Messenger (ﷺ) said, “If anyone of you leads the people in the prayer, he should shorten it for amongst them are the weak, the sick and the old; and if anyone among your prays alone then he may prolong (the prayer) as much as he wishes. “

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top