۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 9

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ، تَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ نَائِمَةٌ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثَوْبُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ‏.‏ وَزَادَ مُسَدَّدٌ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَنَا حَائِضٌ‏.‏

ہم سے احمد بن اسحاق سرماری نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطہ سے بیان کیا ۔ انھوں نے عمرو بن میمون سے ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے ، کہا کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۔ قریش اپنی مجلس میں ( قریب ہی ) بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ان میں سے ایک قریشی بولا اس ریاکار کو نہیں دیکھتے ؟ کیا کوئی ہے جو فلاں قبیلہ کے ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر ، خون اور اوجھڑی اٹھا لائے ۔ پھر یہاں انتظار کرے ۔ جب یہ ( آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ) سجدہ میں جائے تو گردن پر رکھ دے ( چنانچہ اس کام کو انجام دینے کے لیے ) ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر یہ غلاظتیں ڈال دیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی کی حالت میں سر رکھے رہے ۔ مشرکین ( یہ دیکھ کر ) ہنسے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے ۔ ایک شخص ( غالباً ابن مسعود رضی اللہ عنہما ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ۔ وہ ابھی بچہ تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا دوڑتی ہوئی آئیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی سجدہ ہی میں تھے ۔ پھر ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ) ان غلاظتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے ہٹایا اور مشرکین کو برا بھلا کہا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر کے فرمایا ’’ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر ۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر ۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر ۔ ‘‘ پھر نام لے کر کہا خدایا ! عمرو بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عتبہ ، امیہ بن خلف ، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ ابن ولید کو ہلاک کر ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا ، خدا کی قسم ! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مقتول پایا ۔ پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنویں والے خدا کی رحمت سے دور کر دئیے گئے ۔

Narrated Maimuna:

The Prophet (ﷺ) used to pray while I used to sleep beside him during my periods (menses) and in prostration his garment used to touch me.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top