۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 8

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ ‏ “‏ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلاَةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ ‏”‏‏.‏

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں خبر دی امام مالک نے صالح بن کیسان سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، آپ نے فرمایا کہاللہ تعالیٰ نے پہلے نماز میں دو دو رکعت فرض کی تھی ۔ سفر میں بھی اور اقامت کی حالت میں بھی ۔ پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھی گئی اور حالت اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی ۔

Narrated `Aisha:

the mother of believers: Allah enjoined the prayer when He enjoined it, it was two rak`at only (in every prayer) both when in residence or on journey. Then the prayers offered on journey remained the same, but (the rak`at of) the prayers for non-travelers were increased.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top