۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 4

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ‏”‏‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ، فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ ‏”‏‏.‏ تَابَعَهُ وَهْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ غُنْدَرٌ وَيَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ‏.‏

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہمیں نضر نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے حکم کے واسطے سے بتلایا ، وہ ذکوان سے ، وہ ابوصالح سے ، وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا ۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا ۔ انھوں نے کہا ، جی ہاں ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی ( کا کام ) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے ( غسل ضروری نہیں ) ۔

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:

Allah’s Messenger (ﷺ) sent for a Ansari man who came with water dropping from his head. The Prophet (ﷺ) said, “Perhaps we have forced you to hurry up, haven’t we?” The Ansari replied, “Yes.” Allah’s Messenger (ﷺ) further said, “If you are forced to hurry up (during intercourse) or you do not discharge then ablution is due on you (This order was canceled later on, i.e. one has to take a bath).

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top